میں حیدری ہوں، قلندر ہوں، مست ہوں، میں علی مرتضیٰ (ع) کا بندہ ہوں۔
Haider-e-um Qalandaram Mastam Banda-e-Murtaza Ali Hastam
پیشوائے تمام رندانم کہ سگِ کوئے شیرِ یزدانم
میں تمام رندوں کا امام ہوں کہ شیرِ خدا کے در کا سگ ہوں۔
Peshwa-e-Tamaan Rindanam Ke Saga-e-Koh-e-Sher-e-Yazdanam
من بغیر از علی نہ دانستم ھو الاعلیٰ، ھو العلی گفتم
میں علی (ع) کے علاوہ کسی کو بھی نہیں جانتا، وہی اعلیٰ ہیں، وہی بلند ہیں، بس یہی کہتا ہوں۔
Man Baghair az Ali Na Dansitam Ho Wal Aala Ho Wal Ali Guftam
غیرِ حیدر اگر ہمی دانی کافری و یہود و نصرانی
تُو اگر حیدر (ع) کے علاوہ کسی کو جانتا و مانتا ہے تو پھر کافر ہے، یہودی ہے یا عیسائی (یعنی ان کو ماننا ایمان کا حصہ ہے اور نہ ماننے سے ایمان نہیں رہتا)۔
Ghair e Haider Agar Hamee Danees Kafiri o Yahood o Nasranees
شاہبازے فضائے لاہوتم مستِ صہبائے مرتضیٰ ہستم
میں لاہوتی (زمان و مکان، کائنات سے ماورا) فضا کا شاہباز ہوں کہ میں بادۂ مرتضیٰ (ع) سے مست ہوں۔
Shahbaz e Faza e Lahotam Mast e Sehba e Murtaza bastam